لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند
Toggle stanza 1لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند
11
لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند
دے کھول قبا اپنی کی بے خوف و خطر بند
22
افسون نگہ سے تری اے ساقیٔ بد مست
شیشہ میں ہوئی مثل پری اپنی نظر بند
33
مکڑاتے ہوئے پھرتے ہیں ہم کوچہ میں اس کے
کیا کیجئے دروازہ ادھر بند ادھر بند
44
یا شاہ نجف نام اشارہ میں ترا لوں
ہو جائے دم نزع زباں میرے اگر بند
55
آوے وہ اگر یار سفر کردہ تو انشاؔ
میں دوڑ کے کس لطف سے کھلواؤں کمر بند
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

