لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند

Toggle stanza 1
لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند
1

لگ جا تو مرے سینہ سے دروازہ کو کر بند

دے کھول قبا اپنی کی بے خوف و خطر بند

2

افسون نگہ سے تری اے ساقیٔ بد مست

شیشہ میں ہوئی مثل پری اپنی نظر بند

3

مکڑاتے ہوئے پھرتے ہیں ہم کوچہ میں اس کے

کیا کیجئے دروازہ ادھر بند ادھر بند

4

یا شاہ نجف نام اشارہ میں ترا لوں

ہو جائے دم نزع زباں میرے اگر بند

5

آوے وہ اگر یار سفر کردہ تو انشاؔ

میں دوڑ کے کس لطف سے کھلواؤں کمر بند

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…