چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنو

Toggle stanza 1
چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنو
1

چھیڑنے کا تو مزہ جب ہے کہو اور سنو

بات میں تم تو خفا ہو گئے لو اور سنو

2

تم کہو گے جسے کچھ کیوں نہ کہے گا تم کو

چھوڑ دے گا وہ بھلا دیکھیے تو اور سنو

3

یہ بھی انصاف ہے کچھ سوچو تو اپنے دل میں

تم تو سو کہہ لو مری کچھ نہ سنو اور سنو

4

اب تو کچھ اتنے خفا ہو کہ کہو ہو مجھ سے

ہے قسم تم کو مرا نام نہ لو اور سنو

5

عرض احوال مرا سن کے جھڑک کر بولے

جاؤ، رے واؤ زبر رو ہو، چلو اور سنو

6

چل کے دو ایک قدم دیکھتے پھر ہو یوں کو

گالیاں سن تو چکے چاہتے ہو اور سنو

7

آپ ہی آپ مجھے چھیڑو رکو پھر آپھی

آپ ہی بات میں پھر روٹھ رہو اور سنو

8

آفریں ایں نہ یہی چاہیئے شاباش تمہیں

دیکھ روتا مجھے یوں ہنسنے لگو اور سنو

9

بات میری جو نہیں سنتے اکیلے مل کے

ایسے ہے ڈھب سے سناؤں کہ سنو اور سنو

10

شکوہ مند آپ سے انشاؔ ہو سو اس کا کیا دخل

تم نہ مانو تو کہیں چپکے چھپو اور سنو

Zameen

Poems with the Same Metre and Rhyme

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…