تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں
Toggle stanza 1تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں
11
تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں
معاملہ ابھی مطلق وہ رو بہ راہ نہیں
22
غلط ہے آہ کہ ہے دل کو دل سے راہ نہیں
کہ تیری چاہ مجھے تجھ کو میری چاہ نہیں
33
غلام ہم تو ہیں ایسے مزاج والوں کے
کسی کے ساتھ کسی ڈھب کی جن کو راہ نہیں
44
ہماری چوری جو ثابت ہوئی دلیل بھی کچھ
مقر نہیں کوئی شاہد نہیں گواہ نہیں
55
تواضع آپ کی ہم کیا کریں بھلا صاحب
بقول شخصے اس اپنے جگر میں آہ نہیں
66
رکھائیاں جو یہی ہیں تو اس طرح اپنا
نہیں نہیں نہیں ہرگز نہیں نباہ نہیں
77
حرم سے دیر میں یاں آب و دانہ لے آیا
بہ رب کعبہ مرا اس میں کچھ گناہ نہیں
88
نہ کچھ جہت نہ سبب قاہ قاہ ہنستے ہو
تمہاری خوش مجھے آتی یہ قاہ قاہ نہیں
99
کہوں بقید قسم لاالہ الا اللہ
کہ تاب ہجر بس اب مجھ میں اے الٰہ نہیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

