تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں

Toggle stanza 1
تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں
1

تفضلات نہیں لطف کی نگاہ نہیں

معاملہ ابھی مطلق وہ رو بہ راہ نہیں

2

غلط ہے آہ کہ ہے دل کو دل سے راہ نہیں

کہ تیری چاہ مجھے تجھ کو میری چاہ نہیں

3

غلام ہم تو ہیں ایسے مزاج والوں کے

کسی کے ساتھ کسی ڈھب کی جن کو راہ نہیں

4

ہماری چوری جو ثابت ہوئی دلیل بھی کچھ

مقر نہیں کوئی شاہد نہیں گواہ نہیں

5

تواضع آپ کی ہم کیا کریں بھلا صاحب

بقول شخصے اس اپنے جگر میں آہ نہیں

6

رکھائیاں جو یہی ہیں تو اس طرح اپنا

نہیں نہیں نہیں ہرگز نہیں نباہ نہیں

7

حرم سے دیر میں یاں آب و دانہ لے آیا

بہ رب کعبہ مرا اس میں کچھ گناہ نہیں

8

نہ کچھ جہت نہ سبب قاہ قاہ ہنستے ہو

تمہاری خوش مجھے آتی یہ قاہ قاہ نہیں

9

کہوں بقید قسم لاالہ الا اللہ

کہ تاب ہجر بس اب مجھ میں اے الٰہ نہیں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…