وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں
Poet: Imam Bakhsh Nasikh
Toggle stanza 1وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں
11
وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں
وہ مے خوار غیروں میں ہے خوار میں ہوں
22
نہیں عشق سے زرد زردار میں ہوں
اگر ہے وہ یوسف خریدار میں ہوں
33
تمنا ہے ساقی کبھی بزم مے میں
وہ سرشار ہو اور ہشیار میں ہوں
44
ہوئی جمع بے دردی دردمندی
دل آزار وہ ہے ستم گار میں ہوں
55
وہ کرتا ہے باتیں میں کرتا ہوں آہیں
گہر بار وہ ہے شرر بار میں ہوں
66
وہی بولتا ہے جو میں بولتا ہوں
اگر وہ ہے بلبل تو منقار میں ہوں
77
دگرگوں ہے ہر آن وضع محبت
کبھی غیر میں ہوں کبھی یار میں ہوں
88
کہا حضرت دردؔ نے خوب ناسخؔ
یہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

