وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں

Toggle stanza 1
وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں
1

وہ بیزار مجھ سے ہوا زار میں ہوں

وہ مے خوار غیروں میں ہے خوار میں ہوں

2

نہیں عشق سے زرد زردار میں ہوں

اگر ہے وہ یوسف خریدار میں ہوں

3

تمنا ہے ساقی کبھی بزم مے میں

وہ سرشار ہو اور ہشیار میں ہوں

4

ہوئی جمع بے دردی دردمندی

دل آزار وہ ہے ستم گار میں ہوں

5

وہ کرتا ہے باتیں میں کرتا ہوں آہیں

گہر بار وہ ہے شرر بار میں ہوں

6

وہی بولتا ہے جو میں بولتا ہوں

اگر وہ ہے بلبل تو منقار میں ہوں

7

دگرگوں ہے ہر آن وضع محبت

کبھی غیر میں ہوں کبھی یار میں ہوں

8

کہا حضرت دردؔ نے خوب ناسخؔ

یہ زلف بتاں کا گرفتار میں ہوں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…