مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا

Poet: Imam Bakhsh Nasikh

Rhyme: اں

Radif: کا

Poetic form: Ghazal

Toggle stanza 1
مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا
1

مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا

طلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا

2

ازل سے دشمنی طاؤس و مار آپس میں رکھتے ہیں

دل پر داغ کو کیوں کر ہے عشق اس زلف پیچاں کا

3

کسی خورشید رو کو جذب دل نے آج کھینچا ہے

کہ نور صبح صادق ہے غبار اپنے بیاباں کا

4

چمکنا برق کا لازم پڑا ہے ابر باراں میں

تصور چاہیئے رونے میں اس کے روئے خنداں کا

5

دیا میرے جنازے کو جو کاندھا اس پری رو نے

گماں ہے تختۂ تابوت پر تخت سلیماں کا

6

کسی سے دل نہ اس وحشت سرا میں میں نے اٹکایا

نہ الجھا خار سے دامن کبھی میرے بیاباں کا

7

تہہ شمشیر قاتل کس قدر بشاش تھا ناسخؔ

کہ عالم ہر دہان زخم پر ہے روئے خنداں کا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…
مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا — Ghazaliyat · ZindeRood