مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا
Poet: Imam Bakhsh Nasikh
Toggle stanza 1مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا
11
مرا سینہ ہے مشرق آفتاب داغ ہجراں کا
طلوع صبح محشر چاک ہے میرے گریباں کا
22
ازل سے دشمنی طاؤس و مار آپس میں رکھتے ہیں
دل پر داغ کو کیوں کر ہے عشق اس زلف پیچاں کا
33
کسی خورشید رو کو جذب دل نے آج کھینچا ہے
کہ نور صبح صادق ہے غبار اپنے بیاباں کا
44
چمکنا برق کا لازم پڑا ہے ابر باراں میں
تصور چاہیئے رونے میں اس کے روئے خنداں کا
55
دیا میرے جنازے کو جو کاندھا اس پری رو نے
گماں ہے تختۂ تابوت پر تخت سلیماں کا
66
کسی سے دل نہ اس وحشت سرا میں میں نے اٹکایا
نہ الجھا خار سے دامن کبھی میرے بیاباں کا
77
تہہ شمشیر قاتل کس قدر بشاش تھا ناسخؔ
کہ عالم ہر دہان زخم پر ہے روئے خنداں کا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

