صاف قاصد کو واں جواب ملا

Toggle stanza 1
صاف قاصد کو واں جواب ملا
1

صاف قاصد کو واں جواب ملا

میرے خط کا یہی جواب ملا

2

آج ذرے کو آفتاب ملا

کہ مجھے ساغر شراب ملا

3

کہتے ہیں صبح دم وہ دیکھ کے منہ

جائے آئینہ آفتاب ملا

4

بے ثبات اپنی بزم عیش جو ہے

شیشۂ مے کی جا حباب ملا

5

بخت نے پائی جب کہ بیداری

میرے پائے طلب کو خواب ملا

6

ہو گیا دل جو آبلہ ساقی

سمجھے ہم شیشۂ شراب ملا

7

گور بھی کھد رہی ہے مہر کے ساتھ

آپ خوش ہو گئے خطاب ملا

8

کب سے ناسخؔ یہ جستجو ہے مجھے

آج وہ خانماں خراب ملا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…