صاف قاصد کو واں جواب ملا
Poet: Imam Bakhsh Nasikh
Toggle stanza 1صاف قاصد کو واں جواب ملا
11
صاف قاصد کو واں جواب ملا
میرے خط کا یہی جواب ملا
22
آج ذرے کو آفتاب ملا
کہ مجھے ساغر شراب ملا
33
کہتے ہیں صبح دم وہ دیکھ کے منہ
جائے آئینہ آفتاب ملا
44
بے ثبات اپنی بزم عیش جو ہے
شیشۂ مے کی جا حباب ملا
55
بخت نے پائی جب کہ بیداری
میرے پائے طلب کو خواب ملا
66
ہو گیا دل جو آبلہ ساقی
سمجھے ہم شیشۂ شراب ملا
77
گور بھی کھد رہی ہے مہر کے ساتھ
آپ خوش ہو گئے خطاب ملا
88
کب سے ناسخؔ یہ جستجو ہے مجھے
آج وہ خانماں خراب ملا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.
Loading…

