ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ

Toggle stanza 1
ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ
1

ہیں اشک مری آنکھوں میں قلزم سے زیادہ

ہیں داغ مرے سینے میں انجم سے زیادہ

2

سو رمز کی کرتا ہے اشارے میں وہ باتیں

ہے لطف خموشی میں تکلم سے زیادہ

3

جز صبر دلا چارہ نہیں عشق بتاں میں

کرتے ہیں یہ ظلم اور تظلم سے زیادہ

4

مے خانے میں سو مرتبہ میں مر کے جیا ہوں

ہے قلقل مینا مجھے قم قم سے زیادہ

5

سو رقص سے افزوں ہے پری رو تری رفتار

پاؤں کی صدا لاکھ ترنم سے زیادہ

6

تکلیف تکلف سے کیا عشق نے آزاد

موئے سر شوریدہ ہیں قاقم سے زیادہ

7

معشوقوں سے امید وفا رکھتے ہو ناسخؔ

ناداں کوئی دنیا میں نہیں تم سے زیادہ

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…