آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے

Toggle stanza 1
آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے
1

آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے

کو بہ کو در در لیے پھرتی ہے رسوائی مجھے

2

کام عاشق کو کسی کی عیب بینی سے نہیں

حسن بینی کو خدا نے دی ہے بینائی مجھے

3

جور سہتا ہوں بتوں کے ناتوانی کے سبب

دل اٹھا لوں اس قدر کب ہے توانائی مجھے

4

جس طرح آتا ہے پیری میں جوانی کا خیال

وصل کی شب یاد روز ہجر میں آئی مجھے

5

گنتی ایک اک نام کی ہر گور میں مردے ہیں دفن

بعد مردن بھی ہوئی دشوار تنہائی مجھے

6

مثل ساغر بزم عالم میں میں کب خنداں ہوا

کس لیے دیتا ہے گردش چرخ مینائی مجھے

7

عین دانائی ہے ناسخؔ عشق میں دیوانگی

آپ سودائی ہیں جو کہتے ہیں سودائی مجھے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…