مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیں

Toggle stanza 1
مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیں
1

مجھ کو اب ساقیٔ گلفام سے کچھ کام نہیں

مے سے کچھ کام نہیں جام سے کچھ کام نہیں

2

دل میں خوش آئی ہیں صحرا کی ببولیں پر خار

اب کسی سرو گل اندام سے کچھ کام نہیں

3

اپنے آرام سے ہوں دشت جنوں میں تنہا

کسی محبوب دل آرام سے کچھ کام نہیں

4

خانہ برباد ہوں صحرا میں بگولوں کی طرح

سقف و دیوار و در و بام سے کچھ کام نہیں

5

طائر روح رمیدہ کی طرح چھوٹا ہوں

اب تو صیاد ترے دام سے کچھ کام نہیں

6

طبع روشن کو نہیں خوف سیہ روزی کا

صبح محشر ہوں مجھے شام سے کچھ کام نہیں

7

اتنی مدت سے ہوں غربت میں وطن بھول گیا

مجھ کو اب نامہ و پیغام سے کچھ کام نہیں

8

ہے فراق بت خود کام میں ناسخؔ کا کلام

ہوں میں ناکام مجھے کام سے کچھ کام نہیں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…