نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل
Poet: Bahadur Shah Zafar
Toggle stanza 1نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل
نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل
تمہیں دینا ہی ہوگا بوسہ خم روئی سے کیا حاصل
دل آزاری نے تیری کر دیا بالکل مجھے بیدل
نہ کر اب میری دل جوئی کہ دل جوئی سے کیا حاصل
نہ جب تک چاک ہو دل پھانس کب دل کی نکلتی ہے
جہاں ہو کام خنجر کا وہاں سوئی سے کیا حاصل
برائی یا بھلائی گو ہے اپنے واسطے لیکن
کسی کو کیوں کہیں ہم بد کہ بدگوئی سے کیا حاصل
نہ کر فکر خضاب اے شیخ تو پیری میں جانے دے
جواں ہونا نہیں ممکن سیہ روئی سے کیا حاصل
چڑھائے آستیں خنجر بکف وہ یوں جو پھرتا ہے
اسے کیا جانے ہے اس عربدہ جوئی سے کیا حاصل
عبث پنبہ نہ رکھ داغ دل سوزاں پہ تو میرے
کہ انگارے پہ ہوگا چارہ گر روئی سے کیا حاصل
شمیم زلف ہو اس کی تو ہو فرحت مرے دل کو
صبا ہووے گا مشک چیں کی خوشبوئی سے کیا حاصل
نہ ہووے جب تلک انساں کو دل سے میل یک جانب
ظفرؔ لوگوں کے دکھلانے کو یکسوئی سے کیا حاصل
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

