نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل

Toggle stanza 1
نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل
1

نہ دو دشنام ہم کو اتنی بد خوئی سے کیا حاصل

تمہیں دینا ہی ہوگا بوسہ خم روئی سے کیا حاصل

2

دل آزاری نے تیری کر دیا بالکل مجھے بیدل

نہ کر اب میری دل جوئی کہ دل جوئی سے کیا حاصل

3

نہ جب تک چاک ہو دل پھانس کب دل کی نکلتی ہے

جہاں ہو کام خنجر کا وہاں سوئی سے کیا حاصل

4

برائی یا بھلائی گو ہے اپنے واسطے لیکن

کسی کو کیوں کہیں ہم بد کہ بدگوئی سے کیا حاصل

5

نہ کر فکر خضاب اے شیخ تو پیری میں جانے دے

جواں ہونا نہیں ممکن سیہ روئی سے کیا حاصل

6

چڑھائے آستیں خنجر بکف وہ یوں جو پھرتا ہے

اسے کیا جانے ہے اس عربدہ جوئی سے کیا حاصل

7

عبث پنبہ نہ رکھ داغ دل سوزاں پہ تو میرے

کہ انگارے پہ ہوگا چارہ گر روئی سے کیا حاصل

8

شمیم زلف ہو اس کی تو ہو فرحت مرے دل کو

صبا ہووے گا مشک چیں کی خوشبوئی سے کیا حاصل

9

نہ ہووے جب تلک انساں کو دل سے میل یک جانب

ظفرؔ لوگوں کے دکھلانے کو یکسوئی سے کیا حاصل

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…