جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
Poet: Bahadur Shah Zafar
Toggle stanza 1جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
جب کبھی دریا میں ہوتے سایہ افگن آپ ہیں
فلس ماہی کو بتاتے ماہ روشن آپ ہیں
سیتے ہیں سوزن سے چاک سینہ کیا اے چارہ ساز
خار غم سینے میں اپنے مثل سوزن آپ ہیں
پیار سے کر کے حمائل غیر کی گردن میں ہاتھ
مارتے تیغ ستم سے مجھ کو گردن آپ ہیں
کھینچ کر آنکھوں میں اپنی سرمۂ دنبالہ دار
کرتے پیدا سحر سے نرگس میں سوسن آپ ہیں
دیکھ کر صحرا میں مجھ کو پہلے گھبرایا تھا قیس
پھر جو پہچانا تو بولا حضرت من آپ ہیں
جی دھڑکتا ہے کہیں تار رگ گل چبھ نہ جائے
سیج پر پھولوں کی کرتے قصد خفتن آپ ہیں
کیا مزا ہے تیغ قاتل میں کہ اکثر صید عشق
آن کر اس پر رگڑتے اپنی گردن آپ ہیں
مجھ سے تم کیا پوچھتے ہو کیسے ہیں ہم کیا کہیں
جی ہی جانے ہے کہ جیسے مشفق من آپ ہیں
پر غرور و پر تکبر پر جفا و پر ستم
پر فریب و پر دغا پر مکر و پر فن آپ ہیں
ظلم پیشہ ظلم شیوہ ظلم ران و ظلم دوست
دشمن دل دشمن جاں دشمن تن آپ ہیں
یکہ تاز و نیزہ باز و عربدہ جو تند خو
تیغ زن دشنہ گزار و ناوک افگن آپ ہیں
تسمہ کش طراز و غارت گر تاراج ساز
کافر یغمائی و قزاق رہزن آپ ہیں
فتنہ جو بیداد گر سفاک و اظلم کینہ ور
گرم جنگ و گرم قتل و گرم کشتن آپ ہیں
بدمزاج و بددماغ و بدشعار و بدسلوک
بد طریق و بدزباں بدعہد و بدظن آپ ہیں
بے مروت بے وفا نامہرباں نا آشنا
میرے قاتل میرے حاسد میرے دشمن آپ ہیں
اے ظفرؔ کیا پائے قاتل کے ہے بوسے کی ہوس
یوں جو بسمل ہو کے سرگرم طپیدن آپ ہیں
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

