گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
Poet: Bahadur Shah Zafar
Toggle stanza 1گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
گئی یک بہ یک جو ہوا پلٹ نہیں دل کو میرے قرار ہے
کروں اس ستم کو میں کیا بیاں مرا غم سے سینہ فگار ہے
یہ رعایۂ ہند تبہ ہوئی کہوں کیا جو ان پہ جفا ہوئی
جسے دیکھا حاکم وقت نے کہا یہ بھی قابل دار ہے
یہ کسی نے ظلم بھی ہے سنا کہ دی پھانسی لوگوں کو بے گناہ
وہی کلمہ گویوں کی سمت سے ابھی دل میں ان کے بخار ہے
نہ تھا شہر دہلی یہ تھا چمن کہو کس طرح کا تھا یاں امن
جو خطاب تھا وہ مٹا دیا فقط اب تو اجڑا دیار ہے
یہی تنگ حال جو سب کا ہے یہ کرشمہ قدرت رب کا ہے
جو بہار تھی سو خزاں ہوئی جو خزاں تھی اب وہ بہار ہے
شب و روز پھول میں جو تلے کہو خار غم کو وہ کیا سہے
ملے طوق قید میں جب انہیں کہا گل کے بدلے یہ ہار ہے
سبھی جادہ ماتم سخت ہے کہو کیسی گردش بخت ہے
نہ وہ تاج ہے نہ وہ تخت ہے نہ وہ شاہ ہے نہ دیار ہے
جو سلوک کرتے تھے اور سے وہی اب ہیں کتنے ذلیل سے
وہ ہیں تنگ چرخ کے جور سے رہا تن پہ ان کے نہ تار ہے
نہ وبال تن پہ ہے سر مرا نہیں جان جانے کا ڈر ذرا
کٹے غم ہی، نکلے جو دم مرا مجھے اپنی زندگی بار ہے
کیا ہے غم ظفرؔ تجھے حشر کا جو خدا نے چاہا تو برملا
ہمیں ہے وسیلہ رسول کا وہ ہمارا حامیٔ کار ہے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

