تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے

Toggle stanza 1
تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
1

تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے

عشق کی آتش بلا ہے اس کی سوزش اور ہے

2

کیوں نہ وحشت میں چبھے ہر مو بشکل نیش تیز

خار غم کی تیرے دیوانے کی کاوش اور ہے

3

مطربو باساز آؤ تم ہماری بزم میں

ساز و ساماں سے تمہاری اتنی سازش اور ہے

4

تھوکتا بھی دختر رز پر نہیں مست الست

جو کہ ہے اس فاحشہ پر غش وہ فاحش اور ہے

5

تاب کیا ہمتاب ہووے اس سے خورشید فلک

آفتاب داغ دل کی اپنے تابش اور ہے

6

سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں

گر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے

7

ابر مت ہم چشم ہونا چشم دریا بار سے

تیری بارش اور ہے اور اس کی بارش اور ہے

8

ہے تو گردش چرخ کی بھی فتنہ انگیزی میں طاق

تیری چشم فتنہ زا کی لیک گردش اور ہے

9

بت پرستی جس سے ہووے حق پرستی اے ظفرؔ

کیا کہوں تجھ سے کہ وہ طرز پرستش اور ہے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…