تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
Poet: Bahadur Shah Zafar
Toggle stanza 1تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
تفتہ جانوں کا علاج اے اہل دانش اور ہے
عشق کی آتش بلا ہے اس کی سوزش اور ہے
کیوں نہ وحشت میں چبھے ہر مو بشکل نیش تیز
خار غم کی تیرے دیوانے کی کاوش اور ہے
مطربو باساز آؤ تم ہماری بزم میں
ساز و ساماں سے تمہاری اتنی سازش اور ہے
تھوکتا بھی دختر رز پر نہیں مست الست
جو کہ ہے اس فاحشہ پر غش وہ فاحش اور ہے
تاب کیا ہمتاب ہووے اس سے خورشید فلک
آفتاب داغ دل کی اپنے تابش اور ہے
سب مٹا دیں دل سے ہیں جتنی کہ اس میں خواہشیں
گر ہمیں معلوم ہو کچھ اس کی خواہش اور ہے
ابر مت ہم چشم ہونا چشم دریا بار سے
تیری بارش اور ہے اور اس کی بارش اور ہے
ہے تو گردش چرخ کی بھی فتنہ انگیزی میں طاق
تیری چشم فتنہ زا کی لیک گردش اور ہے
بت پرستی جس سے ہووے حق پرستی اے ظفرؔ
کیا کہوں تجھ سے کہ وہ طرز پرستش اور ہے
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

