جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
Toggle stanza 1جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
یہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہوا
کیا جو قتل مجھے تم نے خوب کام کیا
کہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا
کبھی تو شیفتہ اس نے کہا کبھی شیدا
غرض کہ روز نیا اک مجھے خطاب ہوا
پیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپنا
کہ ساتھ غیر کے وہ آج ہم شراب ہوا
تمہارے لب کے لب جام نے لیے بوسے
لب اپنے کاٹا کیا میں نہ کامیاب ہوا
گلی گلی تری خاطر پھرا بچشم پر آب
لگا کے تجھ سے دل اپنا بہت خراب ہوا
تری گلی میں بہائے پھرے ہے سیل سرشک
ہمارا کاسۂ سر کیا ہوا حباب ہوا
جواب خط کے نہ لکھنے سے یہ ہوا معلوم
کہ آج سے ہمیں اے نامہ بر جواب ہوا
منگائی تھی تری تصویر دل کی تسکیں کو
مجھے تو دیکھتے ہی اور اضطراب ہوا
ستم تمہارے بہت اور دن حساب کا ایک
مجھے ہے سوچ یہ ہی کس طرح حساب ہوا
ظفرؔ بدل کے ردیف اور تو غزل وہ سنا
کہ جس کا تجھ سے ہر اک شعر انتخاب ہوا
Conversation
Reader comments
Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

