یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا

Toggle stanza 1
یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا
1

یا مجھے افسر شاہانہ بنایا ہوتا

یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

2

اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تو نے

کیوں خرد مند بنایا نہ بنایا ہوتا

3

خاکساری کے لیے گرچہ بنایا تھا مجھے

کاش خاک در جانانہ بنایا ہوتا

4

نشۂ عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو

عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا

5

دل صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن

زلف مشکیں کا ترے شانہ بنایا ہوتا

6

صوفیوں کے جو نہ تھا لائق صحبت تو مجھے

قابل جلسۂ رندانہ بنایا ہوتا

7

تھا جلانا ہی اگر دورئ ساقی سے مجھے

تو چراغ در مے خانہ بنایا ہوتا

8

شعلۂ حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے

ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا

9

روز معمورۂ دنیا میں خرابی ہے ظفرؔ

ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…