سوارِ ناقہ و محمل نہیں میں

Toggle stanza 1
سوارِ ناقہ و محمل نہیں میں
1

سوارِ ناقہ و محمل نہیں میں

نشانِ جادہ ہوں، منزل نہیں میں

2

مری تقدیر ہے خاشاک سوزی

فقط بجلی ہوں مَیں، حاصل نہیں میں

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…