Book in this metre
This page shows only poems in the metre فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف).
Bang-e-Dara by Allama Iqbal, in the metre فاعلاتن فاعلاتن فاعلاتن فاعلن (رمل مثمن محذوف)
اے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
تُو شناسائے خراشِ عُقدۂ مشکل نہیں
تھے دیارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے
فکرِ انساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہُوا
مہرِ روشن چھُپ گیا، اُٹھّی نقابِ رُوئے شام
جل رہا ہوں کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے
شورشِ میخانۂ انساں سے بالاتر ہے تو
کس زباں سے اے گُلِ پژمردہ تُجھ کو گُل کہوں
اے کہ تیرا مرغِ جاں تارِ نفَس میں ہے اسیر
ٹُوٹ کر خورشید کی کشتی ہوئی غرقابِ نیل
قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم
رُخصت اے بزمِ جہاں! سُوئے وطن جاتا ہوں مَیں
مَیں نے چاقو تجھ سے چھِینا ہے تو چِلّاتا ہے تُو
جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں
میرے ویرانے سے کوسوں دُور ہے تیرا وطن
عظمتِ غالبؔ ہے اک مدّت سے پیوندِ زمیں
کیسی حیرانی ہے یہ اے طفلکِ پروانہ خُو!
ہم بغَل دریا سے ہے اے قطرۂ بے تاب تو
جُستجو جس گُل کی تڑپاتی تھی اے بُلبل مجھے
ہے عجب مجموعۂ اضداد اے اقبالؔ تو
رو لے اب دل کھول کر اے دیدۂ خُوننابہ بار
سرزمیں دلّی کی مسجودِ دلِ غم دیدہ ہے
آسماں، بادل کا پہنے خرقۂ دیرینہ ہے
ہو رہی ہے زیرِ دامانِ اُفُق سے آشکار
گو سراپا کیفِ عشرت ہے شرابِ زندگی
قافلہ لُوٹا گیا صحرا میں اور منزل ہے دُور
غرّۂ شوّال! اے نُورِ نگاہِ روزہدار
دوش می گُفتم بہ شمعِ منزلِ ویرانِ خویش
ہر نفَس اقبالؔ تیرا آہ میں مستور ہے
آتی ہے مشرق سے جب ہنگامہ در دامن سحَر
فاطمہ! تُو آبرُوئے اُمّتِ مرحوم ہے
خوب ہے تجھ کو شعارِ صاحبِ یثرِبؐ کا پاس
ذرّہ ذرّہ دہر کا زندانیِ تقدیر ہے
صبح جب میری نگہ سودائیِ نظّارہ تھی
قوم نے پیغامِ گوتم کی ذرا پروا نہ کی
ایک دن اقبالؔ نے پُوچھا کلیمِ طُور سے
اپنی مِلّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
اے ہمایوں! زندگی تیری سراپا سوز تھی
ساحلِ دریا پہ مَیں اک رات تھا محوِ نظر