Book in this metre
This page shows only poems in the metre مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن (مجتث مثمن مخبون محذوف).
Zarb-e-Kalim by Allama Iqbal, in the metre مفاعلن فَعِلاتن مفاعلن فَعِلن (مجتث مثمن مخبون محذوف)
یہ ہیں سب ایک ہی سالِک کی جُستجو کے مقام
عجَب نہیں کہ خدا تک تری رسائی ہو
وہ علم اپنے بُتوں کا ہے آپ ابراہیم
یہ حکمتِ ملکوتی، یہ علمِ لاہُوتی
طلسمِ بُود و عدم، جس کا نام ہے آدم
ستارگانِ فضاہائے نیلگوں کی طرح
خدا تجھے کسی طُوفاں سے آشنا کر دے
حریفِ نکتۂ توحید ہو سکا نہ حکیم
ہزار بار حکیموں نے اس کو سُلجھایا
وجودِ زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ
سرود و شعر و سیاست، کتاب و دِین و ہُنر
تری خودی سے ہے روشن ترا حریمِ وجود
مقابلہ تو زمانے کا خوب کرتا ہُوں
وہ نغمہ سردیِ خُونِ غزل سرا کی دلیل
نہ ایشیا میں نہ یورپ میں سوز و سازِ حیات
روِش قضائے الٰہی کی ہے عجیب و غریب
مری نوا سے گریبانِ لالہ چاک ہُوا
کہا مجاہدِ تُرکی نے مجھ سے بعدِ نماز
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ