Book in this metre
This page shows only poems in the metre مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف).
Zarb-e-Kalim by Allama Iqbal, in the metre مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن (هزج مثمن اخرب مکفوف محذوف)
دے ولولۂ شوق جسے لذّتِ پرواز
ممکن ہے کہ تُو جس کو سمجھتا ہے بہاراں
میں بندۂ ناداں ہوں، مگر شُکر ہے تیرا
نااہل کو حاصل ہے کبھی قُوّت و جبروت
غدّارِ وطن اس کو بتاتے ہیں برہمن
سوچا بھی ہے اے مردِ مسلماں کبھی تُو نے
اسکندر و چنگیز کے ہاتھوں سے جہاں میں
ہے زندہ فقط وحدتِ افکار سے ملّت
مجھ کو بھی نظر آتی ہے یہ بوقلمونی
ہر خاکی و نُوری پہ حکومت ہے خرد کی
صُوفی کی طریقت میں فقط مستیِ احوال
مرقد کا شبستاں بھی اُسے راس نہ آیا
کہتا ہے زمانے سے یہ درویشِ جواں مرد
افکار جوانوں کے خفی ہوں کہ جَلی ہوں
کل ساحلِ دریا پہ کہا مجھ سے خضَر نے
سب اپنے بنائے ہوئے زنداں میں ہیں محبوس
ہو حلقۂ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
تھی خوب حضورِ عُلَما باب کی تقریر
شِیرازہ ہُوا ملّتِ مرحوم کا ابتر
ہر شاخ سے یہ نکتۂ پیچیدہ ہے پیدا
ہو بندۂ آزاد اگر صاحبِ اِلہام
اس دَور میں اقوام کی صُحبت بھی ہُوئی عام
اے پِیرِ حرم! رسم و رہِ خانقہی چھوڑ
قوموں کی حیات ان کے تخیّل پہ ہے موقوف
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت
ہے کس کی یہ جُرأت کہ مسلمان کو ٹوکے
پابندیِ تقدیر کہ پابندیِ احکام!
اُس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
جس بندۂ حق بیں کی خودی ہوگئی بیدار
آزادیِ افکار سے ہے اُن کی تباہی
اقبالؔ! یہاں نام نہ لے علمِ خودی کا
مقصد ہو اگر تربَیتِ لعلِ بدخشاں
رُسوا کِیا اس دَور کو جَلوت کی ہُوس نے
اس بحث کا کچھ فیصلہ مَیں کر نہیں سکتا
اک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور
تہذیبِ فرنگی ہے اگر مرگِ اُمومت
سُورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام
انجم کی فضا تک نہ ہُوئی میری رسائی
اس دشتِ جگر تاب کی خاموش فضا میں
فِردوس میں رومیؔ سے یہ کہتا تھا سنائیؔ
اے اہلِ نظر ذوقِ نظر خُوب ہے لیکن
شاید تو سمجھتی تھی وطن دُور ہے میرا
دیکھے تُو زمانے کو اگر اپنی نظر سے
کس درجہ یہاں عام ہُوئی مرگِ تخیّل
مشرق کے نیَستاں میں ہے محتاجِ نفَس نَے
ہر چند کہ ایجادِ معانی ہے خدا داد
مَیں شعر کے اَسرار سے محرم نہیں لیکن
قوموں کی روِش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم
مَیں کارِ جہاں سے نہیں آگاہ، ولیکن