امتحاں کے لیے جفا کب تک
شاعر: مومن خان مومنؔ
Toggle stanza 1امتحاں کے لیے جفا کب تک
11
امتحاں کے لیے جفا کب تک
التفات ستم نما کب تک
22
غیر ہے بے وفا پہ تم تو کہو
ہے ارادہ نباہ کا کب تک
33
جرم معلوم ہے زلیخا کا
طعنۂ دست نارسا کب تک
44
مجھ پہ عاشق نہیں ہے کچھ ظالم
صبر آخر کرے وفا کب تک
55
دیکھیے خاک میں ملاتی ہے
نگہ چشم سرمہ سا کب تک
66
کہیں آنکھیں دکھا چکو مجھ کو
جانب غیر دیکھنا کب تک
77
نہ ملائیں گے وہ نہ آئیں گے
جوش لبیک و مرحبا کب تک
88
ہوش میں آ تو مجھ میں جان نہیں
غفلت جرأت آزما کب تک
99
لے شب وصل غیر بھی کاٹی
تو مجھے آزمائے گا کب تک
1010
تم کو خو ہو گئی برائی کی
درگزر کیجیئے بھلا کب تک
1111
مر چلے اب تو اس صنم سے ملیں
مومنؔ اندیشۂ خدا کب تک
گفتگو
قارئین کے تبصرے
اپنی رائے دیں، سوال پوچھیں یا گفتگو کو آگے بڑھائیں۔ تبصروں کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
لوڈ ہو رہا ہے…

