صنف کے تحت کتاب
یہ صفحہ صرف صنفِ نظم کے تحت آنے والی نظمیں دکھاتا ہے۔
صنفِ نظم میں علامہ اقبالؔ کی کتاب بالِ جبریل
ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو
سِلسلۂ روز و شب، نقش گرِ حادثات
قید خانے میں معتمدؔ کی فریاد
میری آنکھوں کا نُور ہے تُو
ہسپانیہ تُو خُونِ مسلماں کا امیں ہے
یہ غازی، یہ تیرے پُر اسرار بندے
اے انفُس و آفاق میں پیدا ترے آیات
عقل ہے بے زمام ابھی، عشق ہے بے مقام ابھی
’دریغ آمدم زاں ہمہ بوستاں
پروانے کی منزل سے بہت دُور ہے جُگنو
خودی کے ساز میں ہے عُمرِ جاوداں کا سُراغ
مے کدے میں ایک دن اک رندِ زِیرک نے کہا
مَیں بھی حاضر تھا وہاں، ضبطِ سخن کر نہ سکا
کلیِسا کی بُنیاد رُہبانیت تھی
پالتا ہے بیج کو مٹّی کی تاریکی میں کون
ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانی
بچۂ شاہیں سے کہتا تھا عقابِ سالخورد
یہ گُنبدِ مِینائی، یہ عالمِ تنہائی
ہُوا خیمہ زن کاروانِ بہار
جو تھا نہیں ہے، جو ہے نہ ہو گا، یہی ہے اک حرفِ محرمانہ
عطا ہُوئی ہے تجھے روز و شب کی بیتابی
کھول آنکھ، زمیں دیکھ، فلک دیکھ، فضا دیکھ
چشمِ بینا سے ہے جاری جُوئے خُوں
ہمدمِ دیرینہ! کیسا ہے جہانِ رنگ و بُو؟
اک رات ستاروں سے کہا نجمِ سحَر نے
شہیدِ محبّت نہ کافر نہ غازی
مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی
دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
یہ آفتاب کیا، یہ سِپہرِ بریں ہے کیا!
ہم خُوگرِ محسوس ہیں ساحل کے خریدار
راز ہے، راز ہے تقدیرِ جہانِ تگ و تاز
نُدرتِ فکر و عمل کیا شے ہے، ذوقِ انقلاب
اک مفلسِ خود دار یہ کہتا تھا خدا سے
بتا کیا تری زندگی کا ہے راز
حضورِ حق سے چلا لے کے لُولوئے لالا
قبائل ہوں ملّت کی وحدت میں گُم
کہیں سجّادہ و عمّامہ رہزن
دل زندہ و بیدار اگر ہو تو بتدریج
کہتے ہیں کبھی گوشت نہ کھاتا تھا معّری
وہی بُت فروشی، وہی بُت گری ہے