غزل شمارهٔ 40
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن مفاعیلن (هزج مثمن سالم)
قافیہ: انهپیدرپی
صنف: غزل/قصیده/قطعه
Toggle stanza 1کشیدی باده ها در صحبت بیگانه پی در پی
کشیدی باده ها در صحبت بیگانه پی در پی
بنور دیگران افروختی پیمانه پی در پی
تو نے اے مسلمان غیروں کی صحبت اختیار کر کے ان کے افکار و خیالات کی متواتر شراب پی ہے ۔ تو نے غیروں کے نور سے مسلسل اپنے دل کے پیالے کو روشن کیا ہے ۔ غیروں کے افکار چھوڑ کر اپنے دین کی طرف لوٹ جا ۔
Too oft was thy light with strangers to take wine, to suffer others’ light within the bowl to shine.
ز دست ساقی خاور دو جام ارغوان در کش
که از خاک تو خیزد نالهٔ مستانه پی در پی
اور مشرق کے ساقی کے ہاتھوں شرابِ سرخ کے دو جام پی لے ۔ تا کہ تیرے جسم خاکی سے مستی سے بھرپور نالہ و شیون نکلتے ہیں ۔ شراب مغرب (افکار و خیالات) نے تجھے اپنے اسلاف کے بادہٌ علم و فن سے بیگانہ کر دیا ہے ۔ اپنے اسلاف کی شراب ارغوانی پینا شروع کر دے ۔ تیرے جسم خاکی میں کیف و سرور پیدا ہو جائے گا ۔
The orient wine-bearer hands thee the purple cup; drink! Let the drunkard’s air from thy parched earth mount up!
دلی کو از تب و تاب تمنا آشنا گردد
زند بر شعله خود را صورت پروانه پی در پی
وہ دل کو کہ آرزو کی حدت اور تڑپ سے آشنا ہو جاتا ہے وہ خود کو پروانے کی مانند شمع پر نثار کرتا رہتا ہے ۔
The heart that knoweth well the fever of desire moth-like will hover still about the candle’s fire.
ز اشک صبحگاهی زندگی را برگ و ساز آور
شود کشت تو ویران تا نریزی دانه پی در پی
صبح کے وقت کہ آہ و زاری سے سامان زندگی پیدا کر ۔ تیری یہ کھیتی دل ویران ہو جائے گی ۔ اگر تو اس میں مسلسل دانہ نہ ڈالتا رہے گا ۔
Sprinkle thy morning tears upon life’s desert plain; new harvest scarce appears except thou sow thy grain.
بگردان جام و از هنگامه افرنگ کمتر گوی
هزاران کاروان بگذشت ازین ویرانه پی در پی
اے مسلمان اپنے پیالے کو گردش میں لا اور یورپ کے ہنگامہ (افکار و خیالات) ترک کر دے ۔ ان کے طرز عمل کی شکایت چھوڑ کر اپنے خیالات اپنا لے ۔ مغربی اثرات خود بخود ختم ہو جائیں گے ۔ تجھے کچھ کہنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی ۔ دنیا کے اس ویرانے سے ہزاروں قافلے یکے بعد دیگرے گزرے ہیں لیکن کسی کوبھی ثبات نہیں ۔ اس لیے فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ اہل یورپ بھی ایک دن نیست و نابود ہو جائیں گے ۔
Pass wine! Speak not to me of Europe’s tumult vast; caravans countlessly that desolation passed.
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

