Toggle stanza 1
لاله این گلستان داغ تمنائی نداشت
1

لاله این گلستان داغ تمنائی نداشت

نرگس طناز او چشم تماشائی نداشت

اس چمن میں گل و لالہ تمنا کا داغ نہ رکھتا تھا اور اس کی شوخ و بیباک نرگس نگاہ شوق نہیں رکھتی تھی ۔ چمن میں بے عملی کا دور دورہ تھا ۔

In the mead a tulip blows in whose breast no yearning glows, a narcissus, languid too, yet it lacked the eye to view.

2

خاک را موج نفس بود و دلی پیدا نبود

زندگانی کاروانی بود و کالائی نداشت

مٹی (آدم) میں سانس کی موج تو موجود تھی ۔ زندگی تو تھی لیکن اس کے اندر سوز والا دل پیدا نہیں ہوا تھا ۔ زندگی اک کارواں تو تھی لیکن اس کے ساتھ کوئی زادہِ راہ نہ تھا ۔ (زندگی میں ذوق عمل کی کمی تھی) ۔

Billowing breath was in the clay, but no heart did it display; caravan upon the road – such was life, yet where the load?

3

روزگار از های و هوی میکشان بیگانه ئی

باده در میناش بود و باده پیمائی نداشت

زمانے کا میکدہ ، میکشوں کے شور و غل سے خالی تھا ۔ اس کی صراحی میں شراب عشق تو موجود تھی لیکن کوئی شراب پینے والا عاشق موجود نہیں تھا ۔

Time itself was void and free of the topers’ song of glee; wine was in the glass aflame yet was none to quaff the same.

4

برق سینا شکوه سنج از بی زبانیهای شوق

هیچکس در وادی ایمن تقاضائی نداشت

وادی سینا کی تجلی عشق کی بے زبانی کا شکوہ کر رہی ہے ۔ (جلوہَ حسن تو موجود ہے لیکن نظارہ کرنے والا کوئی نہیں ) دیدار کا تقاضا کرنے والا موجود نہیں ۔

Sinai’s lightning made complaint that desire was dumb and faint; in the peaceful valley there silent was the voice of prayer.

5

عشق از فریاد ما هنگامه ها تعمیر کرد

ورنه این بزم خموشان هیچ غوغائی نداشت

عشق نے ہماری فریاد سے سارے ہنگامے برپا کئے ہیں ۔ ورنہ یہ خاموش بزم کوئی ہنگامہ (شور و غوغا) نہیں رکھتی تھی ۔

Love upon our woe exprest builds anew the great unrest; else no murmur ever stirs from these silent banqueters.

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور