Toggle stanza 1
زندگی در صدف خویش گهر ساختن است
1

زندگی در صدف خویش گهر ساختن است

در دل شعله فرو رفتن و نگداختن است

زندگی کا فلسفہ اپنی سیپ کے اندر موتی بنانا ہے ۔ شعلہ کے دل میں اتر جانا ہے اور اس آگ عشق میں پگھلنا نہیں (بلکہ اس مٹی کو کندن بنانا ہے) ۔

What is this life? A pearl in thy own shell to bear, in the flame’s heart to hurl thyself, nor melt to air.

2

عشق ازین گنبد در بسته برون تاختن است

شیشهٔ ماه ز طاق فلک انداختن است

عشق تو اس بند گنبد یعنی آسمان کی وسعتوں سے باہر نکل جانے کا عمل ہے ۔ عشق تو آسمان کے طاق سے کھڑکی سے چاند کا پیالہ لے کر نیچے پھینک دیتا ہے (اس کی حکمرانی زمان و مکان پر چھائی ہوئی ہے) ۔

Love is with speed to pass out of this shuttered sphere, to cast the moon’s bright glass high over heaven clear.

3

سلطنت نقد دل و دین ز کف انداختن است

به یکی داد جهان بردن و جان باختن است

سلطنت ایسی چیز ہے کہ دین اور دل دونوں ہاتھ سے جاتے ہیں ۔ ایک ہی داوَ میں جہاں فتح کر لینا اور ہار دینا ہے ۔ (اگر ملوکیت ہو تو دین ہاتھ سے جاتا رہتا ہے اور دنیا کی آسائشیں میسر ہوتی ہیں )جبکہ خلافت میں دین اور دنیا دونوں قائم رہتے ہیں ۔

Power is from hand to fling the cash of heart and faith: To rule the world, a king, and brave the chance of death.

4

حکمت و فلسفه را همت مردی باید

تیغ اندیشه بروی دو جهان آختن است

حکمت اور فلسفہ کے لیے کسی (مردِ کامل) کی ضرورت پڑتی ہے ۔ یہ فکر کی تلوار دونوں جہانوں پر کھینچتا ہے ۔

Philosophy is taught by manly zeal alone, to whet the blade of thought upon the world for stone.

5

مذهب زنده دلان خواب پریشانی نیست

از همین خاک جهان دگری ساختن است

زندہ دلوں کا مذہب کوئی پریشان خواب نہیں ہے ۔ ان کا مذہب تو اس مٹی سے ایک اور نیا جہان پیدا کرتا ہے (زندہ دل اپنی دنیا خود بساتے ہیں وہ دوسروں کی خواہشوں کے تابع نہیں ہوتے) ۔

The living spirit’s trust is no disordered dream, but of this scattered dust to build a braver scheme.

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور