Toggle stanza 1
کم سخن غنچه که در پردهٔ دل رازی داشت
1

کم سخن غنچه که در پردهٔ دل رازی داشت

در هجوم گل و ریحان غم دم سازی داشت

کم سخن غنچہ کہ جو اپنے دل میں ایک راز چھپائے رکھتا تھا ۔ گلاب کے پھولوں اور ریحان کی نرم اور خوشبو دار گھاس کی انجمن کے درمیان کسی دوست کا غم رکھتا تھا ۔

Silent rosebud in her heart had a secret, veiled apart, suffered countless aches and woes buffeted by thyme and rose.

2

محرمی خواست ز مرغ چمن و باد بهار

تکیه بر صحبت آن کرد که پروازی داشت

اس غنچہ نے چمن کے پرندے اور بہار کی ہواسے دوستی کر لی ۔ ان کی صحبت پر اس نے بھروسہ کر لیا کہ وہ بزم کے آداب سے آگاہ تھے ۔ اور جب کچھ دنوں کے بعد خزاں کے موسم نے ڈیرے ڈال لیے تو نہ بلبل رہی اور نہ بہار ۔ تب غنچے کو معلوم ہوا کہ جن کی دوستی پر بھروسہ کیا تھا وہ تو اس کا ساتھ چھوڑ گئے ۔

So she sought, to keep her word, breeze of spring and meadow-bird, putting faith in these (yet both soared on wing) to guard her troth.

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور