غزل شمارهٔ 28

غزل نمبر28

Ghazal No. 28

Toggle stanza 1
دلیل منزل شوقم به دامنم آویز
1

دلیل منزل شوقم به دامنم آویز

شرر ز آتش نابم به خاک خویش آمیز

میں منزل شوق کا راستہ دکھانے والا ہوں میرے دامن سے لگ جا ۔ میری خالص آگ کی کوئی چنگاری اپنی مٹی میں گوندھ لے ۔ یعنی میرے کلام کا مطالعہ کر تا کہ عشق رسول اللہ کا جذبہ پیدا ہو جائے ۔

I am a guidepost to the goal of heart’s desire. Adhere to me. Mix with your dust a spark of my pure fire.

2

عروس لاله برون آمد از سراچه ناز

بیا که جان تو سوزم ز حرف شوق‌انگیز

عروس لالہ ناز حجرے سے باہر آئی ۔ ( میں نے اپنے کلام میں اسرار و رموز فاش کر دیئے ) آکہ میں تیرے جی میں شوق بھڑکانے والے کلام سے آگ لگا دوں (میرے کلام کا مطالعہ کر تو تیرے اندر عشق رسول کی آگ بھڑکنے لگے گی) ۔

The tulip-bride has come out of its boudoir. Come, let me fire your soul with passion-stimulating talk.

3

به هر زمانه به اسلوب تازه می‌گویند

حکایت غم فرهاد و عشرت پرویز

ہر زمانے میں ایک نئے ڈھنگ سے کہی جاتی ہے فرہاد کے غم اور پرویز کی رنگ رلیوں کی کہانی(فرہاد عشق صادق کا نمائندہ ہے اور پرویز عشق کاذب (ہوس) کا نمائندہ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ سچے اور جھوٹے عاشق ہر زمانہ میں پائے جاتے ہیں )

The tale of Farhad’s grief and of Parvez’s happiness is told in every age in different ways.

4

اگرچه زادهٔ هندم فروغ چشم من است۔

ز خاک پاک بخارا و کابل و تبریز

اگرچہ میں ہندوستان کی خاک سے ہوں مگر میری آنکھوں کا نور بخارا اور کابل اور تبریز کی پاک مٹی سے ہے یعنی میرے افکار کا سرچشمہ ہندی نہیں بلکہ اسلامی ہے ۔

Though born in India, I draw my inspiration from the hallowed dust of Kabul and Bokhara and Tabriz.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور