بخش 30 - اگر خواهی حیات اندر خطر زی
اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر
Live Dangerously
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
صنف: چند بندی
Toggle stanza 1غزالی با غزالی درد دل گفت
غزالی با غزالی درد دل گفت
ازین پس در حرم گیرم کنامی
ایک ہرن نے دوسرے سے اپنے دل کا درد کہا اس کے بعد میں حرم میں بسیرا کر لوں گا(کیونکہ وہاں کوئی کسی کو قتل نہیں کر سکتا ۔ )
Said one gazelle to another, ‘I will take shelter in the harem from now on:
بصحرا صید بندان در کمین اند
بکام آهو ان صبحی نه شامی
صحرا میں شکاریوں نے گھات لگا رکھی ہے ہرنوں کو نہ کوئی صبح سازگار ہے نہ کوئی شام ۔
For there are hunters at large in the wild, and there is no peace here for a gazelle.
امان از فتنهٔ صیاد خواهم
دلی ز اندیشه ها آزاد خواهم
میں صیاد (شکاری) کے فتنے سے پناہ چاہتا ہوں ۔ اندیشوں سے آزاد ایک دل چاہتا ہوں ۔
From fear of hunters I want to be free. O how I long for some security.’
Toggle stanza 2رفیقش گفت ای یار خردمند
رفیقش گفت ای یار خردمند
اگر خواهی حیات اندر خطر زی
اس کے ساتھی نے کہا اے دانا دوست اگر تجھے زندگی کی چاہ ہے تو خطرات میں جی (اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر) ۔
His friend replied, ‘Live dangerously, my wise friend, if it is life you truly seek.
دمادم خویشتن را بر فسان زن
ز تیغ پاک گوهر تیز تر زی
خود کو پل پل سان پر رگڑ ۔ اصیل تلوار سے زیادہ تیز گو ہر زندہ رہ ۔
Like a sword of fine mettle hurl yourself upon the whetting-stone; stay sharp thereby.
خطر تاب و توان را امتحان است
عیار ممکنات جسم و جان است
خطر ہمیشہ اور سکت کا امتحان ہے جسم اور روح کے امکانات کی کسوٹی ہے(خطرات ہی سے انسان کی ذہنی اور بدنی قوتوں کا پتہ چلتا ہے) ۔
For danger brings out what is best in you: It is the touchstone of all that is true.’
ماخذ
فارسی متن کا ماخذ: گنجور

