بخش 8 - حیات جاوید

ہمیشہ کی زندگی، ابدی زندگی

Eternal Life

Toggle stanza 1
گمان مبر که به پایان رسید کار مغان
1
گمان مبر که به پایان رسید کار مغان
هزار بادهٔ ناخورده در رگ تاک است

تو یہ گمان مت کر کے مے سازی کا کام ختم ہو گیا (ابھی تو) کتنی ہی ان چکھی شرابیں انگور کی رگوں میں پوشیدہ ہیں ۔ مراد ہے خالق کائنات کے کام سے فارغ ہو کر نہیں بیٹھ گیا ابھی اور بہت کچھ تخلیق کرنا باقی ہے ۔

Do not imagine that the work of the Wine-maker is complete. With unknown quantities of undrunk wine the vine is still replete.

2
چمن خوش است ولیکن چو غنچه نتوان زیست
قبای زندگیش از دم صبا چاک است

چمن اچھا ہے لیکن کلی کی طرح کیا جینا ، اس کی زندگی کی قبا صبا کے ایک جھونکے میں چاک ہو جاتی ہے (تو مضبوط بن تا کہ مخالفتوں کے تند و تیز طوفان میں بکھر نہ سکے) ۔

The garden is a happy place, but you cannot survive as buds in it for long; the breeze will come and tear your being’s robe to shreds.

3
اگر ز رمز حیات آگهی، مجوی و مگیر
دلی که از خلش خار آرزو پاک است

اگر تو ہستی کے بھید سے باخبر ہے تو مت کھوج اور نہ قبول کر ایسا دل جو آرزو کے کانٹے کی کھٹک سے خالی ہے ۔

If you possess the faintest knowledge of life’s awesome mystery, then do not seek a heart entirely free from longing’s agony.

4
به خود خزیده و محکم چو کوهساران زی
چو خس مزی که هوا تیز و شعله بی‌باک است

پہاڑوں کی طرح زیست کر اپنے آپ میں اکٹھا اور اٹل سوکھی ہوئی گھاس ایسی زندگی مت گزار کیونکہ ہوا تیز ہے اور شعلے بھڑک رہے ہیں ۔ (مراد ہے زندگی طوفانوں سے بھری ہوئی ہے اس میں ثابت قدم رہنے کے لیے مضبوط حوصلہ، بلند ہمت اور خود کو قائم رکھنے کے لیے ہر طرح کی کوشش کرنے والا بننا پڑے گا ۔ ) اقبال نے اس نظم میں ابدی زندگی حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ہے کہ اپنے دل کی آرزو یعنی کسی نصب العین کو حاصل کرنے کی آرزو سے آباد کرو ۔

Be like a mountain, grave and lofty, with your native dignity, and not like straw. Beware, there is a wildfire raging savagely.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور