بخش 50 - عشق

Love

Toggle stanza 1
آن حرف دلفروز که راز هست و راز نیست
1

آن حرف دلفروز که راز هست و راز نیست

من فاش گویمت که شنید از کجا شنید

وہ حرف دلفروز (عشق) جو راز بھی ہے اور نہیں بھی؛ میں تمہیں کھول کر بتاتا ہوں کہ اسے کس نے سنا اور کہاں سے سنا۔

Let me expose to you who heard, and where, that heart-enkindling word which is, and which is not, a mystery.

2

دزدید ز آسمان و به گل گفت شبنمش

بلبل ز گل شنید و ز بلبل صبا شنید

شبنم نے اس حرف کو آسمان سے چرایا اور پھول کو بتایا؛ پھول سے بلبل نے سنا اور بلبل سے صبا نے (پھر صبا نے اسے عام کر دیا)۔

Dew stole it from the sky, and dropped it in the rose’s ear. The rose passed it on to the nightingale, which sang it to the breezes as a wail.

زمین

ہم وزن و قافیہ نظمیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور