بخش 13 - پس چه باید کرد ای اقوام شرق

تو اے اقوام شرق اب کیا ہونا چاہیے؟

What Then Is To Be Done, O Nations Of The East?

بند 1
Toggle stanza 1
آدمیت زار نالید از فرنگ
1
آدمیت زار نالید از فرنگ
زندگی هنگامه برچید از فرنگ

نوع انسان فرنگیوں کے ہاتھوں سخت فریاد کر رہی ہے —

زندگی نے اہل فرنگ سے کئی ہنگامے پائے ہیں۔

Humanity weeps in bitter anguish at the West —

Life itself has gathered chaos from the West.

2
پس چه باید کرد ای اقوام شرق
باز روشن می شود ایام شرق

تو پھر اے مشرقی اقوام اب کیا ہونا چاہیے —

تاکہ مشرق کا دور پھر سے روشن ہو جائے۔

What then must be done, O nations of the East —

That the days of the East may shine bright once more?

3
در ضمیرش انقلاب آمد پدید
شب گذشت و آفتاب آمد پدید

اسکے ضمیر میں انقلاب رونما ہو چکا ہے —

رات گزر گئی اور سورج طلوع ہو چکا ہے۔

A quiet revolution has dawned within its soul —

The night has passed and the sun has risen.

4
یورپ از شمشیر خود بسمل فتاد
زیر گردون رسم لادینی نهاد

یورپ تو اپنی تلوار ہی سے گھائل ہو چکا ہے —

اس نے دنیا میں لادینی کی رسم کی بنیاد رکھ دی ہے۔

Europe lies fatally wounded by its own sword —

It has laid the foundation of godlessness beneath the sky.

5
گرگی اندر پوستین بره ئی
هر زمان اندر کمین برّه‎‌ای

وہ تو میمنے کی کھال میں ایک ایسا بھیڑیا ہے —

جو ہر لحظہ میمنے ہی کی گھات میں ہے۔

A ravenous wolf hidden within the skin of a lamb —

Waiting in ambush for the innocent at every moment.

6
مشکلات حضرت انسان ازوست
آدمیت را غم پنهان ازوست

انسانیت کی تمام مشکلات اس کی وجہ سے ہیں —

اسی کی وجہ سے انسانیت غمِ پنہاں میں مبتلا ہے۔

The trials of mankind stem entirely from it —

It is the source of humanity's deepest, hidden grief.

7
در نگاهش آدمی آب و گل است
کاروان زندگی بی‌منزل است

اس کی نگاہ میں آدمی محض مٹی کا پتلا ہے —

اور زندگی کا قافلہ بس یونہی اور بے مقصد رواں ہے۔

In its eyes, man is nothing but water and clay —

And the caravan of life wanders without a destination.

بند 2
Toggle stanza 2
هر چه می‌بینی ز انوار حق است
8
هر چه می‌بینی ز انوار حق است
حکمت اشیا ز اسرار حق است

جو کچھ تو دیکھتا ہے وہ سب حق تعالیٰ کے انوار سے ہے —

اشیا کی حکمت حق کے اسرار میں سے ہے۔

Whatever you behold is born of the Divine Light —

The wisdom of all things lies in the mysteries of the Real.

9
هر که آیات خدا بیند، حر است
اصل این حکمت ز حکم «اُنظُر» است

جو کوئی خدا کی نشانیاں دیکھ لے وہ مرد حر ہے —

اس حکمت کی بنیاد حکم «اُنظر» پر مبنی ہے۔

Whoever witnesses the signs of God is truly free —

The root of this wisdom rests upon the (Quranic) command to "Behold!"

10
بندهٔ مومن ازو بهروزتر
هم به حال دیگران دلسوزتر

مرد مومن نے (اس حکمت) سے وافر حصہ پایا ہے —

اور دوسروں کے معاملے میں بھی بے حد خیر خواہ اور ہمدرد ہے۔

The faithful servant draws far greater fortune from it —

And looks upon the state of others with profound compassion.

11
علم چون روشن کند آب و گلش
از خدا ترسنده‌تر گردد دلش

جب علم اس کے وجود کو منور کرتا ہے —

تو اس کے قلب میں اور زیادہ خوف خدا جاگزین ہوتا ہے۔

When knowledge illuminates his earthly clay —

His heart becomes ever more filled with the awe of God.

12
علم اشیا خاک ما را کیمیاست
آه در افرنگ تأثیرش جداست

اشیا کا علم ہماری خاک کے لیے اکسیر کا درجہ رکھتا ہے —

لیکن افسوس کہ یورپ میں اس کی تاثیر مختلف انداز میں ظاہر ہوئی۔

The knowledge of things serves as alchemy for our dust —

But alas, in the West its effect has taken a different course.

13
عقل و فکرش بی عیار خوب و زشت
چشم او بی‌نم، دل او سنگ و خشت

اس کی عقل اور فکر نے نیکی و بدی کا امتیاز چھوڑ دیا —

اس کی آنکھ بے نم ہو گئی اور اس کا دل پتھر اور اینٹ کی طرح سخت ہو گیا۔

Its intellect and thought possess no measure for good and evil —

Its eyes are void of tears, its heart turned to stone and brick.

14
علم ازو رسواست اندر شهر و دشت
جبرئیل از صحبتش ابلیس گشت

اس کی وجہ سے علم آبادی و بیابان میں رسوا ہو گیا ہے —

اس کی صحبت میں رہ کر جبرئیل (ملکوتی علوم) پر بھی ابلیسیت کی چھاپ لگ گئی ہے۔

Because of it, knowledge is disgraced in city and desert alike —

Even Gabriel turns into Satan through its corrupting company.

15
دانش افرنگیان تیغی به دوش
در هلاک نوع انسان سخت کوش

اہل مغرب کی دانش کندھے پر تلوار رکھے —

بنی نوع انسان کی ہلاکت کے درپے ہے۔

The wisdom of the West carries a drawn sword upon its shoulder —

Striving relentlessly for the destruction of the human race.

16
با خسان اندر جهان خیر و شر
در نسازد مستی علم و هنر

گھٹیا لوگوں کیلئے اس نیکی اور بدی کی دنیا میں —

علم و ہنر کی مستی سازگار نہیں۔

With the base and vile in this world of good and evil —

The sacred intoxication of knowledge and art cannot align.

17
آه از افرنگ و از آئین او
آه از اندیشهٔ لادین او

افسوس ہے اہل مغرب پر اور ان کے آئین پر —

اور افسوس ہے اس کی لادین فکر پر۔

Alas for the West and for its desolate laws —

Alas for its godless and barren philosophy.

18
علم حق را ساحری آموختند
ساحری نی کافری آموختند

انھوں نے علم حق کو بھی جادوگری سکھا دی —

جادوگری نہیں کافری سکھا دی۔

They have taught the Divine Knowledge, the tricks of sorcery —

Nay, not sorcery, but the darkest disbelief they taught.

19
هر طرف صد فتنه می آرد نفیر
تیغ را از پنجهٔ رهزن بگیر

اس نے ہر طرف سینکڑوں فتنے برپا کر دیئے ہیں —

اس لٹیرے کے ہاتھ سے تلوار چھین لینی چاہیے۔

From every side it sounds the trumpet of a hundred afflictions —

Wrest the sword away from the grasp of this highwayman.

20
ای که جان را باز می‌دانی ز تن
سحر این تهذیب لادینی شکن

اے تو کہ جو روح کو جسم سے الگ سمجھتا ہے —

اس لادین تہذیب کے جادو کو توڑ دے۔

O you who know the soul to be greater than the body —

Shatter the dark enchantment of this godless civilization.

21
روح شرق اندر تنش باید دمید
تا بگردد قفل معنی را کلید

فرنگ کے بدن میں مشرق کی روح پھونکنی چاہیے —

تا کہ قفل معانی (حقیقت) کے لیے کلید ثابت ہو۔

The spirit of the East must be breathed into its lifeless frame —

So that it may become the key to the locked doors of meaning.

22
عقل اندر حکم دل یزدانی است
چون ز دل آزاد شد شیطانی است

عقل اگر دل کے حکم کے اندر رہے تو وہ خدائی قوت ہے —

اور اگر دل سے آزاد ہو جائے تو شیطانی قوت بن جاتی ہے۔

Intellect under the command of the heart is divine —

When it breaks free from the heart, it becomes satanic.

بند 3
Toggle stanza 3
زندگانی هر زمان در کشمکَش
23
زندگانی هر زمان در کشمکَش
عبرت‌آموز است احوال حبَش

زندگی ہر لمحہ کش مکش میں ہے —

حبشہ کے حالات عبرت آموز ہیں۔

Life exists in a state of eternal, relentless struggle —

The tragic plight of Abyssinia serves as a grave warning.

24
شرع یورپ بی نزاعِ قیل و قال
برّه را کردست بر گرگان حلال

یورپ کی شرع نے کسی مقدمے اور دلیل کے بغیر —

میمنے کو بھیڑیوں کے لیے حلال قرار دیا ہے۔

The law of Europe, without debate or hesitation —

Has declared the lamb completely lawful for the wolves.

25
نقش نو اندر جهان باید نهاد
از کفن‌دزدان چه امید گشاد

دنیا میں نیا قانون جاری کرنا چاہیے —

کیونکہ ان کفن چوروں سے بہتری کی کوئی امید نہیں۔

A new order must be established within the world —

For what salvation can be hoped for from stealers of shrouds?

26
در جنیوا چیست غیر از مکر و فن؟
صید تو این میش و آن نخچیر من

جنیوا میں مکر و فریب کے سوا اور کیا ہے؟ —

یہی کہ اس کو تو شکار کر لے اور اسے میں کر لوں۔

What exists in Geneva besides deception and craft?

Merely agreeing: "You hunt this sheep, and I will prey on that."

27
نکته‌ها کو می‌نگنجد در سخن
یک جهان آشوب و یک گیتی فتن

(وہاں) ایسے ایسے نکتے (سوچے جاتے) ہیں جو الفاظ میں نہیں سما سکتے —

بس دنیا بھر کے فساد اور جہان بھر کے فتنے ہیں۔

Mysteries too vast that cannot be contained in speech —

A whole world of chaos, an entire universe of strife.

بند 4
Toggle stanza 4
ای اسیر رنگ، پاک از رنگ شو
28
ای اسیر رنگ، پاک از رنگ شو
مؤمن خود، کافر افرنگ شو

اے (مغرب کے ظاہری) رنگ کے غلام! اس رنگ کو دھو ڈال —

اپنی تعلیمات پر ایمان لے آ اور یورپ کا منکر بن جا۔

O captive of (Western) illusion, wash yourself clean of this worldly hue —

Have faith in your own soul, and deny the ways of the West.

29
رشتهٔ سود و زیان در دست توست
آبروی خاوران در دست توست

نفع اور نقصان کا معاملہ تیرے اپنے ہاتھ میں ہے —

مشرق کی آبرو تیرے ہاتھ میں ہے۔

The threads of profit and loss lie within your own hands —

The very honor of the East rests securely in your grasp.

30
این کهن اقوام را شیرازه بند
رایت صدق و صفا را کن بلند

(ایشیا کی) پرانی اقوام کی شیرازہ بندی کر —

اور دنیا میں صدق و صفا کا جھنڈا بلند کر۔

Bind together the scattered pages of these ancient nations —

Raise high the luminous banner of purity and truth.

31
اهل حق را زندگی از قوّت است
قوّت هر ملت از جمعیت است

اہل حق کی زندگی کا دارومدار قوت پر ہے —

ہر ملت کی قوت اس کی جمعیت پر موقوف ہے۔

For the people of Divine Truth, life draws its breath from power —

And the power of every nation lies in its unity.

32
رای بی‌قوّت همه مکر و فسون
قوّت بی‌رای جهل است و جنون

ایسی رائے جسے منوانے کی قوّت نہ ہو محض مکر و فسوں ہے —

اور ایسی قوّت جس کے ساتھ (دانشمندانہ) رائے نہ ہو جہالت ہے، پاگل پن ہے۔

Vision without power is nothing but trickery and spell —

Power without vision is sheer ignorance and madness.

بند 5
Toggle stanza 5
سوز و ساز و درد و داغ از آسیاست
33
سوز و ساز و درد و داغ از آسیاست
هم شراب و هم ایاغ از آسیاست

سوز و ساز اور درد و داغ ایشیا سے ہے —

شراب بھی انہی (ایشیا والوں) کی ہے اور پیالہ بھی انہی کا (سارے انبیا ایشیا میں پیدا ہوئے)۔

The fire, the melody, the ache, and the scar are born of Asia —

Both the intoxicating Wine and the sacred Chalice belong to Asia.

34
عشق را ما دلبری آموختیم
شیوهٔ آدم‌گری آموختیم

ہم (ایشیا والوں) نے عشق کو دلبری سکھائی ہے —

آدم گری (شخصیت سازی) کا انداز بھی ہمارا ہی سکھایا ہوا ہے۔

It is we who taught Love the delicate art of capturing hearts —

It is we who taught the method of shaping true humanity.

35
هم هنر، هم دین ز خاک خاور است
رشک گردون خاک پاک خاور است

ہنر بھی اور دین بھی مشرق ہی کی سرزمین سے پیدا ہوئے —

مشرق کی خاک پاک پر آسمان بھی رشک کرتا ہے۔

Both high art and pure faith sprang from the dust of the East —

The heavens themselves envy the sacred soil of the East.

36
وانمودیم آنچه بود اندر حجاب
آفتاب از ما و ما از آفتاب

جو کچھ مخفی تھا اسے ہم نے باہر نکال کے رکھ دیا —

سورج ہم سے ہے اور ہم سورج سے ہیں۔

We unveiled all that was once concealed behind the veil —

The sun is born of us, and we are born of the sun.

37
هر صدف را گوهر از نیسان ماست
شوکت هر بحر از طوفان ماست

ہر صدف (کے اندر) کا موتی ہماری ہی بارش کے قطرے سے پیدا ہوا —

ہر سمندر کی شان و شوکت ہمارے ہی طوفان سے ہے۔

The pearl in every shell is formed by our spring rain —

The majesty of every ocean is born from our raging storm.

38
روح خود در سوز بلبل دیده‌ایم
خون آدم در رگ گل دیده‌ایم

ہم نے اپنی روح بلبل کے سوز میں (بولتی) دیکھی ہے —

پھول کے رگ و ریشہ میں ہم نے آدم کا خون دوڑتا دیکھا ہے۔

We have seen our own soul weeping in the nightingale's lament —

We have seen the blood of Adam flowing in the rose's vein.

39
فکر ما جویای اسرار وجود
زد نخستین زخمه بر تار وجود

ہماری فکر وجود کے اسرار کی جویا تھی —

ہماری ہی فکر نے وجود کے تار پر پہلے پہل ضرب لگائی تھی۔

Our thought was the seeker of the deep mysteries of existence —

It was our thought that struck the first chord on the lute of Being.

40
داشتیم اندر میان سینه داغ
بر سر راهی نهادیم این چراغ

ہمارے سینے میں داغ (محبت) تھا —

جسے ہم نے چراغ کی صورت میں سرراہے رکھ دیا۔

We carried the burning scar (of Love) deep within our breast —

And placed this blazing lamp upon the pathway of the world.

41
ای امین دولت تهذیب و دین
آن ید بیضا برآر از آستین

(اے ایشیا) تو جو تہذیب اور دین کی دولت کا امین ہے —

پھر وہی یدبیضا اپنی آستین سے باہر نکال۔

O you who are the custodian of the wealth of faith and culture —

Bring forth that radiant, White Hand from your sleeve once more.

42
خیز و از کار امم بگشا گره
نقشهٔ افرنگ را از سر بنه

اٹھ اور قوموں کے معاملات کو سلجھا —

اور مغرب کا نشہ سر سے اتار پھینک۔

Rise and untangle the knotted affairs of the nations —

Cast the intoxicating spell of the West completely from your head.

43
نقشی از جمعیت خاور فکن
و آستان خود را ز دست اهرمن

اتحاد مشرق کی کوئی بنیاد ڈال —

اپنے آپ کو اہرمن (شیطان) کے پنجے سے چھڑا لے۔

Lay down a new foundation for the unity of the East —

And reclaim your true self from the dark grasp of Satan.

بند 6
Toggle stanza 6
دانی از افرنگ و از کار فرنگ
44
دانی از افرنگ و از کار فرنگ
تا کجا در قید زنار فرنگ؟

تو فرنگیوں کو بھی سمجھتا ہے اور ان کے کام کو بھی —

تو پھر کب تک ان کی زنار کی قید میں رہے گا۔

You know the nature of the West and its deceitful deeds —

How long will you remain bound by the pagan thread of the West?

45
زخم ازو، نشتر ازو، سوزن ازو
ما و جوی خون و امید رفو

زخم لگانے والا بھی وہ (فرنگی) ہے، نشتر بھی اس کا ہے اور (زخم سینے والی) سوئی بھی اس کی ہے —

ہم ہیں اور خون کی ندی ہے اور اسی سے زخموں کے سینے کی امید رکھے ہوئے ہیں۔

The wound is from him, the lancet is his, and his the needle —

While we sit in a river of blood, hoping he will stitch the tear.

46
خود بدانی پادشاهی، قاهری‌ست
قاهری در عصر ما سوداگری‌ست

تو خود جانتا ہے کہ بادشاہی قاہری ہے —

اور یہ قاہری ہمارے دور میں سوداگری ہے۔

You know within yourself that kingship is tyranny and force —

And tyranny in our age is nothing but the merchant's trade.

47
تختهٔ دکان شریک تخت و تاج
از تجارت نفع و از شاهی خراج

آج کل دکانداری تخت و تاج کی شریک بن گئی ہے —

تجارت سے نفع حاصل کرتے ہیں اور حکومت کے ذریعے خراج۔

The shopkeeper's counter has become a partner to the throne —

Reaping profit from commerce and extracting tribute through rule.

48
آن جهانبانی که هم سوداگر است
بر زبانش خیر و اندر دل شر است

وہ حکمران جو سوداگر بھی ہے —

اس کی زبان پر بھلائی کی باتیں ہیں مگر دل کے اندر شر ہے۔

That ruler of the world who is also a cunning merchant —

Holds goodness upon his tongue while deep evil resides in his heart.

49
گر تو می‌دانی حسابش را درست
از حریرش نرم‌تر کرپاس توست

اگر تو اس کے معاملے کو اچھی طرح جان لے —

تو تجھے معلوم ہو گا کہ اس کے ریشم سے تیرا اپنا سوتی کپڑا کہیں زیادہ ملائم ہے۔

If you truly understood the measure of his deceitful ledger —

You would see your coarse cotton is softer than his finest silk.

50
بی‌نیاز از کارگاه او گذر
در زمستان پوستین او مخر

اس کے کارخانے کی طرف توجہ نہ دے —

سردیوں میں بھی اس کے گرم کپڑے نہ خرید۔

Pass by his sprawling factories with complete indifference —

Even in the bitter winter, do not purchase his woolen coats.

51
کشتن بی حرب و ضرب آئین اوست
مرگ‌ها در گردش ماشین اوست

بغیر کسی جدال و قتال کے مار ڈالنا اس کا دستور ہے —

اس کی مشینری کی گردش میں کئی اموات پوشیدہ ہیں۔

To slaughter without outright battle is his established law —

Countless deaths are hidden in the revolution of his machines.

52
بوریای خود به قالینش مده
بیذق خود را به فرزینش مده

اپنا بوریا اس کے قالین کے عوض مت دے —

اپنے پیادے کو اس کے وزیر کے بدلے میں نہ دے۔

Do not trade your humble straw mat for his luxurious carpets —

Do not sacrifice your simple pawn for his commanding queen.

53
گوهرش تف‌دار و در لعلش رگ است
مشک این سوداگر از ناف سگ است

اس کا موتی عیب دار اور لکیردار ہے —

یہ سوداگر اپنی کستوری کتّے کی ناف سے حاصل کرتا ہے۔

His pearl is flawed and spit upon, his ruby bears a dark vein —

This merchant extracts his musk from the navel of a dog.

54
رهزن چشم تو خواب مخملش
رهزن تو رنگ و آب مخملش

اس کے مخملیں بستر پر سونے سے آنکھ کی بینائی چلی جاتی ہے —

اس کے مخمل کی چمک دمک تجھے (لبھا کر) لوٹ لینے والی ہے۔

The slumber upon his velvet steals the vision from your eyes —

The vibrant luster of his velvet is a highwayman to your soul.

55
صد گره افکنده‌ای در کار خویش
از قماش او مکن دستار خویش

تو نے تو اپنے کام میں سو الجھنیں ڈال لی ہیں —

اس کے کپڑے سے اپنی پگڑی مت بنا۔

You have cast a hundred painful knots into your own affairs —

Do not weave your turban from the fabric of his loom.

56
هوشمندی از خُم او مِی نخورد
هر که خورد اندر همین میخانه مرد

کوئی سمجھدار اس کی صراحی سے شراب نہیں پیتا —

اور جس کسی نے پی لی وہ بس اسی شراب خانے کے اندر مر جاتا ہے۔

The wise and awakened never drink from his poisoned jar —

For whoever drinks of it simply dies within this very tavern.

57
وقت سودا خندخند و کم‌خروش
ما چو طفلانیم و او شکّرفروش

کاروبار کرتے وقت ہنس ہنس کر باتیں کرتا ہے اور ذرا بھی چیختا چلاتا نہیں —

ہم تو (اس کے سامنے) بچوں کی طرح ہیں جبکہ وہ مٹھائی بیچنے والے کی مانند۔

In trade he laughs softly and makes no loud, aggressive cry —

We are but naive children, and he the seller of sweet treats.

58
محرم از قلب و نگاه مشتری است
یارب این سحر است یا سوداگری‌ست؟

وہ گاہک کے دل و نگاہ کو پوری طرح پڑھنا جانتا ہے —

خدایا یہ سوداگری ہے یا جادوگری۔

He knows the deepest secrets of the buyer's heart and gaze —

O Lord, is this mere merchant's trade or a dark, binding magic?

59
تاجران رنگ و بو بردند سود
ما خریداران همه کور و کبود

یہ رنگ و بو (ظاہری چمک دمک) کے سوداگر تو نفع کما کر لے گئے —

اور ہم خریدار اندھے کے اندھے ہی رہ گئے۔

The merchants of worldly illusion carried away all the profit —

While we, the buyers, were left entirely blind and bruised.

60
آنچه از خاک تو رُست ای مرد حر
آن فروش و آن بپوش و آن بخور

اے مرد حر جو کچھ تیری زمین سے پیدا ہوتا ہے —

اسے بیچ وہی کچھ پہن اور وہی کچھ کھا۔

Whatever grows from your own sacred dust, O free man —

Sell only that, wear only that, and consume only that.

61
آن نکوبینان که خود را دیده‌اند
خود گلیم خویش را بافیده‌اند

وہ سمجھدار لوگ جو اپنے آپ کو پہچانتے ہیں —

وہ اپنی گدڑی کو خود بُنتے ہیں۔

Those seers of the good who have recognized their true selves —

They alone have woven the garments they wear upon their backs.

62
ای ز کار عصر حاضر بیخبر
چرب‌دستی‌های یورپ را نگر

تو جو اس دور کے طور طریقوں سے بے خبر ہے —

ذرا یورپ کی کاریگریوں کو سمجھ۔

O you who remain oblivious to the workings of the modern age —

Observe closely the cunning sleight of hand of Europe.

63
قالی از ابریشم تو ساختند
باز او را پیش تو انداختند

وہ تیرے ریشم سے قالین بنتا ہے —

پھر تیرے ہی سامنے اسے فروخت کے لیے پیش کر دیتا ہے۔

They wove luxurious carpets from your own extracted silk —

And then cast them back before you for your own purchase.

64
چشم تو از ظاهرش افسون خورد
رنگ و آب او تو را از جا برد

تیری نگاہیں اس کے ظاہر سے دھوکا کھا رہی ہیں —

اس کی ظاہری چمک دمک نے تجھے اپنے مقام سے گرا دیا ہے۔

Your eyes are easily spellbound by its shining outward form —

Its color and luster sweep you away from your true station.

65
وایِ آن دریا که موجش کم تپید
گوهر خود را ز غواصان خرید

افسوس ہے اس سمندر پر جس کی موجوں میں جوش و خروش نہ رہا —

جس نے اپنے ہی موتی کو غوطہ خوروں سے خریدا۔

Woe to that ocean whose waves have ceased their restless surge —

And is forced to buy back its own pearls from the divers.

آڈیو

صداکار منتخب کریں

0:000:00

تصاویر

یوٹیوب پر دیکھیں

یوٹیوب پر کھولیں

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور

آڈیو کا ماخذ: گنجور