بخش 3 - آشکارا می‌شود روح هندوستان

روح ہندوستان ظاہر ہوتی ہے

The Spirit of India Appears

Toggle stanza 1
آسمان شق گشت و حوری پاک زاد
1

آسمان شق گشت و حوری پاک زاد

پرده را از چهره خود بر گشاد

آسمان پھٹ گیا اور ایک پاکیزہ حور نے اپنے چہرے سے پردہ اٹھایا ۔

A Houri descended from heavens and she removed niqaab from her face.

2

در جبینش نار و نور لایزال

در دو چشم او سرور لایزال

اس کی پیشانی میں لافانی نور اور روشنی تھی اس کی آنکھوں میں ہمیشہ قائم رہنے والا سرور تھا ۔

She had ever-lasting shine on her forehead and her two eyes had bright with ecstasy.

3

حله ئی در بر سبکتر از سحاب

تار و پودش از رگ برگ گلاب

اس کا لباس بادل سے بھی زیادہ ہلکا تھا ۔ لباس کا تانا بانا گلاب کی پتیوں کے ریشے سے بنا ہوا تھا ۔

Her dress was lighter than thin cloud which was woven of threads made of rose-petals.

4

با چنین خوبی نصبیش طوق و بند

بر لب او ناله های درد مند

اس خوبی کے باوجود اس کی قسمت میں قید و بند (غلامی) تھی ، اس کے ہونٹوں پر درد بھرے نالے تھے ۔

With such loveliness, her portion was collar and chain; on her lips were sorrowful laments.

5

گفت رومی «روح هند است این نگر

از فغانش سوزها اندر نگر»

مطلب (اسے دیکھ کر ) رومی نے زندہ رود سے کہا کہ دیکھ یہ ہندوستان کی روح ہے، اس کی آہ و فغاں سن کر جگر میں کئی سوز پیدا ہو رہے ہیں ۔ (جگر پھٹا جا رہا ہے ) ۔

Rumi said this is the spirit of India; its cries tear apart the heart of the listener.

ماخذ

فارسی متن کا ماخذ: گنجور