بخش 2 - گناه عشق و مستی عام کردند
شاعر: علامہ اقبال
وزن: مفاعیلن مفاعیلن فعولن (هزج مسدس محذوف یا وزن دوبیتی)
Toggle stanza 1گناه عشق و مستی عام کردند
گناه عشق و مستی عام کردند
دلیل پختگان را خام کردند
عشق و مستی کے گناہ کو عام کردیا ۔ پختہ دلیلوں (فلسفیوں کے طریقہ کار کو ) جھٹلا دیا گیا ۔
To love’an rapture sins gave a common sense, And made ripes wisdom a raws logic hence.
به آهنگ حجازی می سرایم
«نخستین باده کاندر جام کردند»
میں حجازی سر کے ساتھ گا رہا ہوں ۔ سب سے پہلے جو شراب پیالے میں ڈالی گئی وہ ساقی کی مست آنکھ سے ادھار لی گئی ۔
I sing songs hey! to Makkan tunes gay, Since wine in cup was poured on the first day.
Toggle stanza 2چه پرسی از مقامات نوایم
چه پرسی از مقامات نوایم
ندیمان کم شناسند از کجایم
میری شاعری کے مقامات کے بارے میں کیا پوچھ گچھ کرتا ہے ۔ میرے دوست نہیں پہچانتے کہ میں کہاں سے ہوں
You ask the spots where I played my jazz there, My friends know little I came up from where.
گشادم رخت خود را اندرین دشت
که اندر خلوتش تنها سرایم
میں نے اپنے مال و اسباب کو صحرا میں کھول دیا تاکہ میں اس کی تنہائی میں اکیلا ہی گیت گاتا رہوں ۔
I opened my baggage in desert’s heat, Where I am singing in his lone retreat.
زمین

