برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے

Toggle stanza 1
برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے
1

برہمن بت کدے کے شیخ بیت اللہ کے صدقے

کہیں ہیں جس کو سوداؔ وہ دل آگاہ کے صدقے

2

جتا دیں جس جگہ ہم قدر اپنی ناتوانی کی

اگر کہسار واں ہووے تو جاوے کاہ کے صدقے

3

نہ دے تکلیف جلنے کی کسو کے دل کو میرے پر

اثر سے دور رہتی ہیں میں اپنی آہ کے صدقے

4

عجائب شغل میں تھے رات تم اے شیخ رحمت ہے

میں اس ریش بلند اور دامن کوتاہ کے صدقے

5

نہیں بے وجہ کوچے سے ترے اٹھنا بگولے کا

ہماری خاک بھی جاتی ہے تیری راہ کے صدقے

6

کبھو وہ شب بھی اے پروانہ حق باہم دکھاوے گا

تو بل بل شمع پر جاوے میں ہوں اس ماہ کے صدقے

7

دکھاتی ہے تجھے کس کس طرح سوداؔ کی نظروں میں

جو ہو انصاف تو جاوے تو اس کی چاہ کے صدقے

Conversation

Reader comments

Add context, ask a question, or respond thoughtfully. Comments may be moderated.

0 / 2000 characters
Loading…